تخلیق کائنات، معرفت الٰہی اور معجزات نبی کا تعارف

تخلیق کائنات کے اسرار، معرفتِ الٰہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات انسان کے ایمان و بصیرت کو روشنی بخشتے ہیں۔ آسمان و زمین، دن و رات، سورج و چاند اور نباتات و حیوانات کی تخلیق ربّ کریم کی قدرت و حکمت کا روشن اظہار ہے۔ نبیوں کی بعثت، ان کا منصب اور ان کے معجزات انسانیت کے لیے ہدایت کا واضح ثبوت بن کر سامنے آتے ہیں۔ یہ معجزات آج بھی روحانی رشد، یقین اور ایمان کو مضبوط بنانے میں گہرا اثر رکھتے ہیں اور دلوں کو معرفت کی روشنی عطا کرتے ہیں۔

November 24, 2025

کیا کائنات اپنے خالق کی نشانی نہیں؟

اللہ پاک نے اس کائنات کو پیدا فرمایا اور اس کے ذرہ ذرہ میں اپنی ذات و صفات پر علامات اور نشانیاں رکھیں، چاند و سورج، زمین و آسمان، خشکی و تری، ہواؤں کا چلنا، بارش کا برسنا، دن اور رات کا بدلنا، چرند و پرند سب کے سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ سب کسی حادثے یا اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ رب العلٰمین، خالقِ حقیقی کی تخلیق ہے۔ پھر اس خالقِ کائنات نے انسان کی عقل میں ایسا نور پیدا کیا جس کی وجہ سے وہ ان نشانیوں میں سے صاحب نشان تک پہنچ جاتا ہے ، اور اپنے رب کی معرفت حاصل کر لیتا ہے۔ پھر اللہ رب العزت نے مزید احسان عظیم یہ فرمایا کہ انبیاء ورسل مبعوث فرمائے ۔ جنہوں نے اللہ پاک کی ذات بابرکت کی پہچان، اس کی اطاعت اور بندگی کی راہ دکھا کر انسان کی رہنمائی کی۔ اس طرح تخلیقِ کائنات، وحی الہی اور عقل انسانی سب ملکر انسان کو معرفت رب ذوالجلال کے قریب کر دیتے ہیں۔

نبی اور رسول کون ہوتے ہیں؟ کیا دونوں میں فرق ہے؟

جس انسان کو اللہ پاک نے مخلوق کی ہدایت کے لیے بھیجا ہو اسے نبی کہتے ہیں اور ان نبیوں میں سے جو اللہ پاک کی طرف سے کوئی نئی آسمانی کتاب اور نئی شریعت لے کر آئے وہ ’’ رسول‘‘ کہلاتے ہیں ۔نبی سب مرد تھے‘ نہ کوئی جن نبی ہوا، نہ کوئی عورت۔ سب سے پہلے پیغمبر حضرت سیِّدُنا آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری پیغمبر حضرت سیِّدُنا محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور باقی تمام نبی و رسول ان دونوں کے درمیان ہوئے۔

نبی اور رسول کی بعثت کیوں ضروری ہے؟

نبی اور رسول کی بعثت کا مقصد کائناتِ انسانی کی رُشد و ہدایت اور خیر و فلاح ہوتا ہے۔ اَنبیاء و رُسل وحی اِلٰہی کے ذرِیعہ ہدایاتِ خداوندی وُصول کر کے اپنے فرائضِ منصبی اَدا کرتے ہیں اور علم و برہان اور محبتِ حق کے ذرِیعہ اللہ کی وحدانیّت اور اپنے مِشن کی صداقت و حقّانیت کا یقین دلاتے ہیں۔ وہ ہرگز ہرگز یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ وہ فطرت اور ماورائے فطرت اُمور میں تصرّف اور تغیر کی مُستقل بالذّات قدرت رکھتے ہیں۔ یہ معجزات خدائے دوجہاں کی قدرتِ کاملہ کے مظہر ہوتے ہیں۔ انبیاء بارہا یہ اِعلان کرتے ہیں کہ وہ اللہ ربّ العزّت کی طرف سے بشیر و نذیر اورداعی اِلیٰ اللہ بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

کیا منصب نبوت عبادت سے ملتا ہے یا خالص عطائے الہٰی ہے؟

تاریخِ اِنسانی گواہ ہے کہ جب اللہ کا نبی یا اُس کا رسول اپنی نبوّت کا اِعلان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ منصبِ نبوت یا منصبِ رسالت پر مامور مِن اللہ ہے، یعنی یہ منصب اُسے ربِّ کائنات نے عطا کیا ہے تو اُس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ یہ منصب اُسے عِبادات و مجاہدات اور نیک اَفعال و اَعمال کے صلے میں عطا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ منصب محض عطائے اِلٰہی سے حاصل ہوتا ہے۔

نبی معاشرے میں آسمانی ہدایت نافذ کیسے کرتے ہیں؟

نبی یا رسول اس عظیم منصب پر فائز ہو کر اِنسانوں کی رَہنمائی کا فریضہ سراِنجام دیتا ہے اور اِنسان کے مقصدِ تخلیق کا اِحیاء کرتا ہے، فطرت کے مقاصد کی نگہبانی کرتا ہے اور اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ معاشرے میں آسمانی ہدایت کے نِفاذ کی بھرپور سعی کرتا ہے، اپنی جدّوجہد کو نتیجہ خیز بناتا ہے اور کرۂ ارضی پر پُرامن معاشرے کے قیام کے بعد اُس کی کامیابی کو ہدایتِ آسمانی کی روشنی میں اپنا راستہ متعین کرنے سے مشروط کرتا ہے۔

نبوت کی صداقت کیسے ثابت ہوتی ہے؟

ضرورت معجزہ اِنسانی ذِہن اِس طرف متوجہ ہو سکتا ہے کہ اگر اُس نبی یا رسول کا دعویٰ نبوّت و رِسالت صحت پر مبنی ہے تو اُس نبی یا رسول کو اللہ کے حضور یقیناً ایسا مقامِ قُرب حاصل ہو گا جو عام اِنسانوں کو میسّر نہیں ہو سکتا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اللہ کے نبیوں اور رسولوں کی دَعوت و تبلیغ سے باطل کے اَیوان لرز اُٹھتے اور فرسودہ نظام کی دِیواروں میں دراڑیں پڑ جاتیں، ظالمانہ رسم و رواج اور عقائدِ باطلہ کے خلاف صدائے اِحتجاج بلند کرنا اور پھر باطل کے ہر نشان کو مِٹانے کے لئے عملاً میدان کارزار میں سینہ سپر ہونا اور اپنے وقت کی باطل اِستحصالی قوّتوں کو للکارنا اُن برگزیدہ ہستیوں کے کارِنبوّت میں سرِفہرست رہا ہے۔

معجزات کیوں ظاہر ہوتے ہیں؟

ذہن انسانی میں اُبھرنے والے اَن گنت شکوک و شبہات کا ازالہ معجزے کے ظہور سے ہوتا ہے۔ یہ اللہ اور اس کے نبی کے درمیان ایک روحانی واسطہ اور رابطہ کی علامت بھی ہے۔ اللہ کے نبیوں اور رسولوں سے ماورائے فطرت اور خارق عادت امور کا صدُور اُن کے دعویٰ نبوّت کا ثبوت بھی ہے۔ معجزات دراصل قربِ اِلٰہی کی نشانی اور تائیدِ غیبی کے مظہر ہوتے ہیں۔

متکبرین کے تکبر کا توڑ

انبوہ اَولادآدم میں ایسے گروہ اور طبقات بھی ہوتے ہیں جو خود بھی نشۂ اِقتدار و قوّت میں مُبتلا ہوتے ہیں اور زبان بھی اِقتدار اور قوّت ہی کی سمجھتے ہیں۔ ان پر کوئی اَمرِ حق اُس وقت تک مؤثر نہیں ہوتا جب تک اُن کے تکبّر اور رعونت کو غیبی ٹھوکر سے جگایا نہ جائے اور اُن کے شعور کو فطرت کے جلال و جمال کے مظاہروں سے بیدار نہ کیا جائے۔ وہ اِس بات کے منتظر رہتے ہیں کہ اللہ کے پیغمبر کے دستِ حق پرست پر کوئی اَیسا معجزہ صادِر ہو یا عقل کو عاجز کر دینے والے اَیسے اَمر کا ظہور ہو جس کے بعد اُس پیغمبر کی صداقت اور حقّانیت کو جھٹلانے کا اُن کے پاس کوئی جواز باقی نہ رہے اور اُن کو یقین ہو جائے کہ وہ واقعی اللہ کے پیغمبر ہیں اور ربِّ کائنات نے بغیر اسباب و عِلل کے اُنہیں یہ عظیم معجزہ عطا فرمایا ہے۔ وہ قادر مطلق یقیناً ہر لمحہ اپنے نبی کی دستگیری کر رہا ہے۔ اُس نبی کو اپنے خالق کی ہر آن تائیدِ غیبی حاصل ہے۔

معجزہ کی تعریف کیا ہے؟

اللہ پاک نے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرما کر انہیں بے شمار کمالات اور خصوصیات سے نوازا، جن میں سے ایک معجزہ ہے۔ معجزہ کسے کہتے ہیں؟: حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے ان کی نبوت کی صداقت ظاہر کرنے کے لیے کسی ایسی تعجب خیز چیز کا ظاہر ہونا جو عادۃً نہیں ہوا کرتی اسی خلاف عادت ظاہر ہونے والی چیز کا نام معجزہ ہے۔

معجزہ چونکہ نبی کی سچائی ظاہر کرنے کے لیے ایک خداوندی نشان ہوا کرتا ہے۔ اس لیے معجزہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ انسانی طاقتوں ، ظاہری اسباب و علل اور عادات جاریہ کے عمل دخل سے بالکل ہی بالاترہو۔ تاکہ اس کو دیکھ کر کفاریہ ماننے پر مجبور ہو جائیں کہ چونکہ اس چیز کا کوئی ظاہری سبب بھی نہیں ہے اور عادۃً کبھی ایسا ہوا بھی نہیں ۔ اس لیے بلاشبہ اس چیز کا کسی شخص سے ظاہر ہونا انسانی طاقتوں سے بالاتر کارنامہ ہے۔ لہٰذا یقینا یہ شخص ا کی طرف سے بھیجا ہوا رسول اور اس کا نبی ہے۔

معجزات کی کتنی اقسام ہیں؟

معجزے کی تین قسمیں ہیں:

(1)لازمی معجزات جیسے خوشبو دار پسینہ

(2)عارضی اختیاری معجزات جیسے عصا کا اژدھا بن جانا

(3)عارضی غیر اختیاری معجزات جیسے آیاتِ قراٰنیہ کا نزول(مراٰۃ المناجیح،ج8،ص53)

معجزے کے ذریعے سچے اور جھوٹے نبی میں فرق ہوتا ہے اس لئے کوئی جھوٹا ”نبوت کا دعویٰ“ کرکے معجزہ نہیں دکھا سکتا۔(المعتقد المنتقد، ص113)

قرآن انبیاء کے معجزات کے بارے میں کیا بیان کرتا ہے؟

ہر نبی کا معجزہ چونکہ اس کی نبوت کے ثبوت کی دلیل ہوتا ہے اس لیےاللہ پاک نے ہر نبی کو اس دور کے ماحول اور اس کی امت کے مزاج عقل و فہم کے مناسب معجزات سے نوازا۔

حضرت صالح علیہ السلام کی اُونٹنی کے بارے میں فرمایا :

قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْؕ-هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً (الاعراف : 73)

بیشک تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے ایک روشن دلیل آ گئی ہے۔ یہ اللہ کی اُونٹنی تمہارے لئے نشانی ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا ذِکر کرتے ہوئے بیان فرمایا :

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ. (بنی اِسرائيل : 101)

اور بے شک ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو نو روشن نشانیاں دیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیہاالسلام کا ذِکر کرتے ہوئے فرمایا :

وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ (الانبياء : 91)

اور ہم نے اُسے اور اُس کے بیٹے (عیسیٰ) کو جہان والوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کے حوالے سے فرمایا :

اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ (المائده : 110)

جب تم اُن کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تو اُن میں سے کافروں نے (یہ) کہہ دیا کہ : ’’یہ تو کھلے جادُو کے سِوا کچھ نہیں‘‘

سورۂ بقرہ میں اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :

وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ. (البقره : 253) اور ہم نے مریم کے فرزند عیسٰی (علیہ السلام) کو واضح نشانیاں عطا کیں۔

آخری نبی محمد مصطفٰے کے معجزات کی اقسام

چونکہ نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمام نبیوں سے افضل ہیں اسی لئے اللہ پاک نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو انبیائے کرام علیہم السلام کے تمام معجزات عطا فرمائے،

آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے معجزات کی دو قسمیں ہیں:

(1)ذاتِ مبارکہ سے متعلق معجزات

(2)ذاتِ مبارکہ کے علاوہ معجزات

معجزہ پیغمبرانہ جلال کا آئینہ دار

معجزہ پیغمبرانہ جلال کا آئینہ دار ہوتا ہے بلاشبہ باری تعالیٰ نے ہر دور میں اپنے برگزیدہ نبیوں اور رسولوں کو آیات و معجزات سے نوازا کیونکہ اللہ ربّ العزّت کو اپنے ان مقرّب نبیوں اور رسولوں کی عظمت کا اِظہار مقصود تھا کہ لوگ اُنہیں اِحترام اور تقدّس کی نگاہ سے دیکھیں۔ ساری کائناتِ اِنسانی ہر دَور میں معجزاتِ انبیاء علیہم السلام کے سامنے بے بسی اور عاجزی کی تصویر بنی رہی۔

کیا معجزہ صرف نبی ہی دکھا سکتا ہے؟

بادشاہ کی اَنگشتری (مہرِحکومت) اُس شخص کو مل سکتی ہے جس کو بادشاہ اپنی نیابت کے اِعزاز سے سرفراز کرے۔ معجزہ اُس عظیم ہستی کے ہاتھوں سے صادِر ہوتا ہے جسے منصب نبوّت و رِسالت پر فائز کیا گیا ہو۔ معجزہ کا صدُور اللہ کے نبی اور رسول ہی سے ممکن ہے۔ معجزہ کسی غیرِ نبی سے صادِر نہیں ہوتا۔ معجزہ ’’آیتِ اِلٰہی‘‘ ہوتا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی قدرتِ مطلقہ کا آئینہ دار ہوتا ہے اور اُس کا ظہور اُسی پروردگار کے اِذن سے انبیاء و رُسل سے صادِر ہوتا ہے۔ اُن سے معجزے کا مطالبہ یا تو تلاشِ حق کے لئے ہوتا ہے کہ معجزے کا ظہور دیکھ کر دولتِ اِیمان نصیب ہو یا پھر یہ مطالبہ محض تعصّب، حسد اور بُغض کی بناء پر ہوتا ہے تاکہ مُنحرفین اور مُنکرین بزعمِ خویش معجزے کی عدم دستیابی کی صورت میں اللہ کے برگزیدہ رسول کو جُھٹلا سکیں۔

سعید اور شقی روحوں کا رویہ

یہی وجہ ہے کہ صدورِ معجزہ کی صورت میں معجزہ دیکھ کر بھی وہ اِیمان کی روشنی سے محروم رہتے ہیں۔ اُن کے تعصّب، حسد اور بغض میں اِنکار کا مزید عنصر داخل ہو جاتا ہے اور اُن کے دِلوں پر قُفل پڑ جاتے ہیں جبکہ سعید رُوحیں معجزے کو دیکھ کر پُکار اُٹھتی ہیں :

اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى (طهٰ: 70)

ہم ہارون اور موسیٰ کے ربّ پر اِیمان لے آئے۔

اس کے برعکس بدبخت اور دولتِ اِیمان و اِیقان سے محروم رُوحیں عِناد و دُشمنی کی تارِیکی میں ڈوب کر کہتی ہیں :

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ (الانعام : 7)

یہ صریح جادو کے سِوا (کچھ) نہیں۔

قرآن کی گواہی

اس حقیقت کو قرآنِ مجید نے اِن اَلفاظ میں بیان کیا ہے :

وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى. (الانفال : 17)

(اے حبیبِ محتشم!) جب آپ نے (اُن پر سنگریزے) مارے تھے (وہ) آپ نے نہیں مارے تھے بلکہ (وہ تو) اللہ نے مارے تھے۔

فرمایا جا رہا ہے کہ : ’’اے حبیب! یہ فعل آپ کا نہ تھا بلکہ ہمارا تھا۔ آپ کے دُشمنوں پر خاک آپ نے نہیں ہم نے پھینکی تھی‘‘۔

نبی کریم ﷺ کے معجزات سب سے زیادہ کیوں؟

ہمارے حضور نبی آخرالزمان صلی ا تعالیٰ علیہ والہ وسلم چونکہ تمام نبیوں کے بھی نبی ہیں۔ اور آپ کی سیرتِ مقدسہ تمام انبیاء علیہم السلام کی مقدس زندگیوں کا خلاصہ اور آپ کی تعلیم تمام انبیا ء کرام علیہم السلام کی تعلیمات کا عطر ہے۔ اورآپ دنیا میں ایک عالمگیر اورابدی دین لے کر تشریف لائے تھے اور عالم کائنات میں اولین و آخرین کے تمام اقوام و ملل آپ کی مقدس دعوت کے مخاطب تھے، اس لیے ا تعالیٰ نے آپ کی ذات مقدسہ کو انبیاء سابقین کے تمام معجزات کا مجموعہ بنا دیا۔ آپ کی ذات و صفات کی ہر ہر ادااور ایک ایک بات اپنے دامن میں معجزات کی ایک دنیا لیے ہوئے ہے۔ آپ کے معجزات کی کثرت اور ان کی نوعیت و عظمت کو دیکھ کر ہر شخص کو اس بات پر ایمان لانا ہی پڑا کہ بلاشبہ آپ نبی برحق اور خدا کے سچے رسول ہیں۔ خود آپ کی جسمانی و روحانی خداداد طاقتوں پر اگر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ آپ کی حیات مقدسہ کے مختلف دور کے محیر العقول کارنامے بجائے خود عظیم سے عظیم تر معجزات ہی معجزات ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی سلیم العقل انسان ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

تاقیامت باقی رہنے والا معجزہ

آپ پر جو کتاب نازل ہوئی وہ آپ کا سب سے بڑا اور قیامت تک باقی رہنے والا ایسا ابدی معجزہ ہے جس کی ہر ہر آیت آیاتِ بینات کی کتاب اور جس کی سطر سطر معجزات کا دفتر ہے۔ آپ کے معجزات عالم اعلیٰ اور عالم اسفل کی کائنات میں اس طرح جلوہ فگن ہوئے کہ فرش سے عرش تک آپ کے معجزات کی عظمت کا ڈنکا بج رہاہے۔

تمام عالموں میں آپ کے معجزات

روئے زمین پر جمادات، نباتات، حیوانات کے تمام عالموں میں آپ کے طرح طرح کے معجزات کی ایسی ہمہ گیر حکمرانی و سلطنت کا پرچم لہرایا کہ بڑے بڑے منکروں کو بھی آپ کی صداقت و نبوت کے آگے جھکنا پڑااور معاندین کے سوا ہر انسان خواہ وہ کسی قوم و مذہب سے تعلق رکھتا ہو اور اپنی افتاد طبع اور مزاج عقل کے لحاظ سے کتنی ہی منزل بلند پر فائز کیوں نہ ہو مگر آپ کے معجزات کی کثرت اور ان کی نوعیت و عظمت کو دیکھ کر اس کو اس بات پر ایمان لانا ہی پڑا کہ بلاشبہ آپ نبی برحق اور خدا کے سچے رسول ہیں۔

عشق والوں کی کامیابی

عقل والے سوچتے رہ جاتے ہیں اور عشق والے جُھک کر اَوجِ ثریا کو پا لیتے ہیں اور بامِ فلک کو چھو لیتے ہیں۔ اِقرارِ نبوّت بذاتِ خود ایک بہت بڑا اِعزاز ہے، اِس اِقرار کے سامنے سب اِقرار ہیچ ہیں کیونکہ اِس اِقرار کی بدولت دِین بھی ملتا ہے اور دُنیا بھی، توحید کی دولت بھی مقدّر بنتی ہے اور رِسالت کی ثروت بھی نصیب ہوتی ہے۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!